بھٹکل26 جون (ایس او نیوز) بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹکا میں بدھ کی صبح سے زبردست بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں مینگلور، اُڈپی، کنداپور، بیندور، بھٹکل، ہوناور، کمٹہ اور انکولہ کے کئی نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے۔ مینگلور میں بعض نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی اتنی زیادہ مقدار میں جمع ہو گیا ہے کہ سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں اور سواریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں دشواری ہو رہی ہے۔ کئی نشیبی علاقوں کے مکانوں میں بھی پانی بھرنے سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مینگلور کے قریب اُلال میں زوردار بارش کے نتیجے میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک مکان پر پڑوسی مکان کی چھت گرنے سے چار لوگوں کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح ضلع اُترکنڑا کے کمٹہ تعلقہ کے گوکرن میں بارش نے پوری کانکریٹ روڈ سے تعمیر شدہ سڑک کی دھجیاں اُڑا دی ہیں۔
بھٹکل میں بارش نے عام زندگی مفلوج کرکے رکھ دی ہے۔ لوگ گھروں میں ہی قید ہوکر رہ گئے ہیں، بازار میں لوگوں کی چہل پہل نہ ہونے سے کاروبار ٹھپ پڑ گیا ہے، جبکہ جگہ جگہ پانی جمع ہوجانے سے کئی علاقے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ بھٹکل حنیف آباد کراس، تینگن گُنڈی کراس و دیگر نیشنل ہائی وے کنارے پانی جمع ہوجانے سے ٹریفک نظام متاثر ہوا ہے۔ بھٹکل میونسپل حدود کے اولڈ بس اسٹینڈ، ماری کٹہ اور مین روڈ پر بھی زوردار بارش سے پانی سڑکوں پر بہتا دیکھا گیا ہے۔ زوردار بارش سے تعلقہ کے کئی مضافاتی علاقوں میں باغات اور کھیتوں میں پانی جمع ہوجانے سے فصلیں تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بھٹکل بندر روڈ سکینڈ کراس سے کوگتی اور آزاد نگر کو جوڑنے والے روڈ کی حالت اتنی خستہ ہو گئی ہے کہ سواریوں کا گزر مشکل ہوگیا ہے۔ انڈر گراونڈ ڈرینج سسٹم کے تحت اس سڑک کی کھدائی کے بعد واپس مٹی بھرنے کے بعد اب بارش کا پانی بھری ہوئی مٹی کو اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے اور عوام کا اس سڑک پر سے گزرنا محال ہوگیا ہے۔ اسی طرح مضافاتی علاقوں میں بھی اکثر راستوں کا حال خستہ ہے اور عوام علاقہ کے کونسلر، پنچایت ممبرس اور تعلقہ انتظامیہ پر زور دے رہے ہیں کہ بارش سے تباہ شدہ سڑکوں کی مرمت کی طرف فوری توجہ دی جائے۔
بھٹکل میں بارش سے بھلے ہی عام زندگی مفلوج ہوئی ہو، مگر بارش شروع ہوتے ہی نوجوانوں کو پانی میں کھیلنے کا بہترین موقع بھی ہاتھ آگیا ہے۔ بھٹکل کی مساجد میں اب چونکہ سوئمنگ پول نہیں ہیں، ڈارنٹا اور شاذلی مسجد کی ندی اور دیگر نالے وغیرہ تیرنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ اب بارش کا پانی ندی اور نالوں میں جمع ہوتے ہی نوجوانوں کو پانی میں کھیلنے کا بہترین موقع ہاتھ آگیا ہے اور وہ اس کا بھرپور لطف لیتے دیکھے گئے ہیں.